بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 198 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 198

198 ینی دے محمدؐ میں اور تو اور تیرے سوا جو کچھ ہے۔سب تیرے لئے پیدا کیا پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اللہ تو ہے اور میں نہیں، اور میں تیرے سوا سب کچھ یرے لئے ترک کر دیا ، شاید ایسی خو کی طرف اشارہ ہے۔شرح فتوحات مکی جلد اول صفحہ ۶۲- حضرت شیخ کبر محی الدین بن عربی علیہ الرحمہ کہتے ہیں کہ پہلا کلمہ ، ہے جو اس عالی مرتب قلم نے لکہا۔اور اس وقت دوسر کوئی کام نہیں لکھا تھا یہ تھا، اپنے محمد یقینا میرا ارادہ یہ ہے کہ تمہاری خاطر عالم کو پیدا کروں جو تمہاری ملکیت ہوگا۔سوال حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی علیہ الصلوۃ والسلام کا افضل المخاوقات ہونے کی وجہ۔شرح - حضرت شیخ اکبر حمتہ اللہ علیہ نے اپنے مکاشفہ قلبیہ کو بیان فرماتے ہوئے حضرت محمد صلی الله و سلم کو تمام مخلوقات کا سردار ظاہر فرمایا ہے ممکن ہے ان نازک نکات عرفانی سے جو لوگ بیگا نہ اور نا اشنا محض نہیں۔وہ تعجب کریں کہ کیونر کروڑہا اور بشمار مخلوقات میں سے صرف ایک ہی شخص اولین و آخرین کا روا اور فاضل المخلوقات ہو سکتا ہے۔جواب۔عادت اللہ یا تم یونہی سمجھ لو کہ اس کا قانون قدرت جو اس کی صفت وحدت کے مناب حال ہے یہی ہے۔کہ وہ بوجہ واحد ہونے کے اپنے افعال خالقیت میں رعائت وحدت کو دوست رکہتا ہے۔جو کچھ اس نے پیدا کیا ہے۔اگر اس سب کی طرف نظر غور سے دیکھیں تو اس ساری مخلوقات کو جو اس دست قدرت سے صادر ہوئی ہے۔ایک ایسا سلسلہ وصافی اور با ترتیب رشتہ میں منسلک پائیں گے کہ گویا وہ ایک خط محمد صدور ہے جس کے دو نو طرفوں میں سے ایک طرف ارتفاع المبندی، اور دوسری مرت انفاس مینی دیتی ، اس طرح پر ہے انتقاق۔۔ترتفاع اس قدر بیان میں تو ایک موٹی سمجھ کا آدمی بھی ساتھ اتفاق رائے کر سکتا ہے۔کہ انسان اشرف المخلوقات ہے۔اور دائرہ انسانیت میں بہت سے متفاوت اور کم و بیش استعداد میں پائی جاتی ہیں۔کہ اگر کی بیٹی کے لحاظ ان کو ایک با ترتیب سلسلہ میں مرتب کریں۔تو بلاشبہ اس سے اسی خط مستقیم محمد محدود کی صورت نکل آئے گی جو اوپر ثبت کیا گیا ہے۔ظرف ارتفاع کے اخیر کے نقطے پر استعداد کا انسان ہوگا۔جو اپنی استعداد انسانی میں نوع انسان سے بڑھ کر ہے۔اور طرف انخفاض میں وہ ناقص الاستعداد روح ہو گی۔جو اپنے نمائت درجہ کے نقصان کی وجہ سے حیوانات لایعقل کے قریب قریب ہے۔اور اگر سلسلہ جاری کیطرف نظر ڈال کر دیکہیں تو اس قاعدہ کو اور بھی تائید پہنچی ہے۔کیو نکہ خدا تعالیٰ نے چھوٹے سے چھوٹے جسم سے لیکر جو ایک ذرہ ہے۔ایک بڑے سے بڑے جسم تک جو افتاب ہے۔اپنی صفت خالقیت کو نام کیا ہے۔اور بلاشبہ خدا تعالیٰ نے اس جہادی سلسلہ۔