بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 155
155 " الحمد للہ تذکار فریدیہ کے سلسلہ میں کچھ کہنے اور لکھنے کی سعادت ملی۔دراصل یہ سب کچھ کسی انسان کے ارادہ سے ممکن نہیں۔نہ ہی میرے لئے اس کا کوئی امکان تھا۔یہ فقط نظر فرید ہے جس کی شفقت نے زبان و قلم کو برکت دی اور حکم باطن سے ارشاد فرمایا جس کی تعمیل میں آغاز کر دیا اور آج یہ تذکار جمیل جاری ہے کہ حضرت باباجی نے اپنے حضور طلب فرما کر اظہار خوشنودی کے ساتھ ساتھ فی الحال مزید لکھنے اور بیان کرنے سے روک دیا کہ جتنا کام کیا ہے اسے محرم الحرام تک شائع کر دو۔ارشاد باطن کی تعمیل میں چند الفاظ کا گلدستہ قدر دان احباب فرید کی خدمت میں پیش ہے۔" (صفحہ ۱۷۲)۔" " اس روحانی پس منظر میں جب مقام فرید " کا سرسری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو یہ راز کھلتا ہے کہ کتاب کے اکثر مباحث و واقعات گزشتہ مصنفین کے افکار و تذکار کا اعادہ یا خلاصہ ہیں اور حضرت باباجی کی سیرت کی وہ "سچی باتیں " جو اس ولی کامل کے فیض زیارت، رہنمائی اور پر اسرار غیبی طاقت کی بدولت پاکپتن شریف کے ارباب طریقت کے سامنے پہلی بار آئی ہیں وہ صرف حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے پر معارف اشعار اور روحانیت اور تصوف سے لبریز تحریرات ہیں جو عرصہ سے شائع شدہ ہیں۔الہذا یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس تالیف کا یہی قیمتی سرمایہ ہے جسے حضرت باباجی کی خوشنودی کا شرف حاصل ہے۔اپنی کتاب میں فاضل مئولف نے "کشف قبور" کے نتیجہ میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے مندرجہ ذیل اشعار درج کئے ہیں۔قدرت سے اپنی ذات کا دیتا ہے حق ثبوت اس بے نشاں کی چہرہ نمائی یہی تو ہے چهره (صفحه (۸۷)۔: