بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 82
82 اوصاف و اخلاق کمال اعتدال و توازن کے ساتھ پائے جاتے تھے۔آپ کا مزاج بدرجہ غائت وضع استقامت پر تھا۔نرمی کی جگہ نرمی سختی کی جگہ سختی ، عفو کی جگہ عفو ، انتقام کی جگہ انتقام ، رحمت کی جگہ رحمت اور غضب کی جگہ غضب۔غرض یہ کہ حکیمانہ طور پر آپ کی طبیعت موزوں و معتدل تھی اس لئے ارشاد فرمایا کہ چراغ وحی فرقان کو اس شجرہ مبارکہ سے روشن کیا گیا ہے کہ نہ شرقی ہے نہ غربی ہے۔یعنی قرآن طبیعت متعدلہ محمدیہ کے موافق نازل ہوا ہے جس میں نہ مزاج موسوی کی طرح سختی ہے اور نہ درشتی ہے اور نہ مزاج عیسوی کی مانند نرمی بلکہ یہ نبی رحمت وہیت و غضب اور لطف و قہر کا جامع ہے۔مظہر کمال اعتدال ہے اور جلال و جمال کا منبع ہے۔اللہ تعالٰی نے دوسرے مقام پر اسی اخلاق معتدلہ فاضلہ اور جمعیت عقل و وحی کو یوں بیان فرمایا۔انک لعلی خلق عظیم۔اے نبی ! تو ایک خلق عظیم پر مخلوق ہے یعنی تو مکارم اخلاق کا متمم و مکمل نمونہ ہے کہ اس پر زیادت متصور ہی نہیں۔آپ کو پورا پورا نوعی کمال حاصل ہو گیا۔ایسا تیل جو بے آگ روشن ہو فرمایا اور تیل ایسا صاف اور لطیف کہ بے آگ دکھائے ہی روشن ہونے کی خاصیت رکھتا ہو۔آپ کی فکری و عملی اور ظاہری و باطنی قومی صلاحیتیں اور اخلاق فاضلہ بغیر وحی خود بخود ہی روشن ہونے اور عالم کو بقعہ طور بنا دینے پر آمادہ تھے۔آپ کی عقل اور جذبات و احساسات نبوت ملنے سے پہلے ہی کمال موزونیت لطافت اور نورانیت رکھتے تھے۔یہاں ضروری اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضور میلیا کی نبوت سے پہلی زندگی کے متعلق تبر کا کچھ واقعات و اخلاق ہدیہ ناظرین کر دیئے جائیں۔رسول الله ل ل ا ل لیلی کے اخلاق و عادات لڑکپن ہی سے ایسے اعلیٰ اور بے نظیر تھے جو آپ کو دیکھتا گرویدہ ہو جاتا۔آپ تمام مکہ میں ممتاز و نمایاں تھے۔آپ قریش میں الامین مشہور تھے۔قریش کی محفلوں میں زیادہ تر لہو و لعب اور فسق و فجور ہوتا تھا مگر