بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 96
96۔نفسیاتی اعتبار سے عقائد اور اخلاقی اصولوں کو اسباق کی شکل میں پیش کرنے کا طریق مسلمہ طور پر بہت موثر و مفید ثابت ہوا ہے۔فاضل مولف نے یہی جدید تکنیک اختیار کی ہے اور اس میں آپ کو خاصی کامیابی ہوئی ہے۔نصاب کی تیاری میں آپ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ اور آپ کے موعود فرزند حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی کتابوں سے خوب استفادہ کیا ہے اور ان کتابوں کے مندرجات کی روشنی میں جملہ اسباق کے ڈھالنے میں جس غیر معمولی محنت و کاوش اور عرقریزی سے کام لیا ہے اس کا تصور کر کے حیرت آتی ہے اور دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔خصوصاً نصاب کے ساتویں حصہ "الانسان" میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے الفاظ ، فقرے بندشیں اور محاورات کا استعمال عجب بہار دکھلا رہا ہے۔جس کی تفصیل ملک کے ایک دانشور اور ادیب جناب نذیر احمد صاحب خادم کے قلم سے ہدیہ قارئین کی جاتی ہے:۔" تاج کمپنی لمیٹڈ لاہور و کراچی کی شائع کردہ کتاب "الانسان" مولفہ ”جناب مولوی بدرالدین صاحب بدر جالندھری اس وقت راقم الحروف کے سامنے ہے۔یہ کتاب " مسلمان بچوں کی مذہبی تعلیم کے سلسلہ اخلاق اسلام کا ساتواں حصہ " ہے۔صفحه ۳ پر " عرض مولف کے زیر عنوان لکھی ہوئی عبارت کا پہلا ہی فقرہ ملاحظہ ہو۔" تمام دینی علوم میں علم اخلاق بھی ایک ضروری علم ہے جو بے تمیز و حشیوں کو انسان انسانوں کو با اخلاق انسان اور با اخلاق انسانوں کو باخدا انسان بنا دیتا ہے۔" پھر صفحہ ۲ پر دیباچہ جو ”چوہدری عمرالدین بی۔اے بی ٹی جالندھری" کے قلم سے مرقوم ہے اس میں وہ فرماتے ہیں۔"فاضل مولف نے انسانی اخلاق اور روحانیت کے مختلف پہلوؤں پر جس محققانہ انداز میں روشنی ڈالی ہے وہ خاص انہی کا حصہ ہے جس کے پڑھنے سے انسان کی طبعی ، اخلاقی اور روحانی حالتوں کی