بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 92 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 92

92۔میں تپایا جائے یہاں تک کہ سرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے۔اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے۔مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے۔بلکہ محبت اسیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو ظاہر وجود کو اپنے رنگ میں لے آتی ہے اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔" (خزینه معرفت صفحه ۳۱۲-۳۱۳) یہاں یہ بتانا خالی از دلچسپی نہ ہو گا کہ اگر چہ "خزینہ معرفت" کے بعض نسخوں میں قطع و برید ہو چکی ہے مگر متذکرۃ الصدر تینوں اقتباسات جو تصوف کی روح رواں اور کتاب کی جان ہیں اب تک من و عن موجود ہیں۔اور کتاب کی جان میں ہے " سید المتکلمین جناب ابوالبیان مولانا " ظهور الحسن شاہ صاحب بریلوی۔بھوانہ ضلع جھنگ آپ کا رسالہ "حقیقت حدیث قرطاس" مدت سے فارورڈ بلاک اثنا عشریہ ہیڈ آفس سیالکوٹ سے شائع شدہ ہے۔یہ کتاب ”پاکستان صادقیہ مشن " کی اکیسویں پیشکش لمتكل نسخه 205 تا 206 2086205 کا اعزاز رکھتی ہے۔اس رسالہ کے ابتدائی دو صفحات ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔کتاب ھیرا جناب سید ا متضمین و ابوالبیان صاحب کے یہ صفحات بانی سلسلہ احمدیہ کی انہی کتابوں کے اقتباسات کا لطیف امتزاج ہیں جو مولف "خزینہ معرفت " نے انتخاب کر کے مجلس تصوف کی رونق دوبالا کرنے کے لئے منتخب کی ہیں۔چنانچہ شروع میں "آئینہ کمالات اسلام" صفحہ ۵۹-۶۰ کی عبارتیں ہیں۔دونوں شعر " براہین احمدیہ حصہ پنجم" صفحہ ۱۸ سے ماخوذ ہیں اور اس کے بعد پوری عبارت ضمیمہ براہین احمدیہ صفحہ ۵۷ سے مستعار لی گئی ہے جو یہ ہے:۔" سارے انبیاء علیهم السلام فنافی اللہ ہوتے ہیں۔ان کے تمام حرکات و سکنات خدا تعالی کی رضامندی کا آئینہ اور حقیقت اسلام کا 3 I