بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 75 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 75

75 ایک گروہ ہے۔ماں، باپ، بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار ہیں ان کی محبت اور تعلقات نے اس کے رگ و ریشہ میں ایسی سرایت کی ہوئی ہے کہ وہ اسلام کی صداقت اور سچائی کو تسلیم کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ بجز اس کے نجات نہیں۔لیکن ان تعلقات کی بنا پر اقرار کرتا ہے کہ یہ راہ جس میں میں چلتا ہوں ، خطرناک اور گندی راہ ہے۔مگر کیا کریں جہنم میں پڑنا منظور ان تعلقات قومی کو کیونکر چھوڑ دیں۔ایسے لوگ نہیں جانتے کہ یہ صرف زبان سے کہنا تو آسان ہے کہ جہنم میں پڑنا منظور۔اگر انہیں اس دکھ درد کی کیفیت معلوم ہو تو پتہ لگے۔ایک آنکھ میں ذرا درد ہو تو معلوم ہو جاتا ہے کہ کس قدر تکلیف ہے پھر جنم تو وہ جہنم ہے جس کی بابت قرآن شریف میں آیا ہے۔لا يموت فيها و لا یحی ایسے لوگ سخت غلطی پر ہیں۔اس کا تو فیصلہ آسان ہے دنیا میں دیکھ لے کہ کیا وہ دنیا کی بلاؤں پر صبر کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں تو پھر یہ کیونکر سمجھ لیا کہ عذاب جہنم کو برداشت کر لیں گے۔بعض لوگ تو دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں مگر وہ لوگ تو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔یقیناً سمجھو کہ جہنم کا عذاب بہت ہی خطرناک ہے اور یہی یاد رکھو کہ اللہ تعالٰی نے صاف طور پر فرما دیا ہے۔ومن يبتغ غير الاسلام دینا الا یہ۔یعنی جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواستگار ہو وہ آخر کار ٹوٹے میں رہے گا۔سالة رداء جس طرح پر انسان کا ایک حلیہ ہوتا ہے اور وہ اسی سے شناخت کیا جاتا ہے اسی طرح پر اللہ تعالی کی ذات اور اس کے صفات بھی ایک طرح پر واقعہ ہوئے ہیں۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ مختلف مذاہب والے خدا تعالیٰ کی جو شکل اور صفات پیش کرتے ہیں وہ سب کی سب درست ہوں۔عیسائی ، ہندو ، چینی ہر ایک جدا جد ا صفات پیش کرتا ہے۔پھر کون عقل مند یہ مان لے گا کہ ہر ایک اپنے اپنے بیان میں سچا ہے۔ماسوائے اس کے سچائی کے خود انوار اور برکات ہوتے ہیں۔یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ وہ نشانات اور انوار و برکات کس خدا کو مان کر ملتے ہیں اور کس دین میں وہ پائے جاتے ہیں۔ایک شخص ایک نسخہ کو استعمال کرتا ہے۔اگر اس نسخہ میں کوئی خوبی