بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 74 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 74

74 انسان حقیقی دین سے کیوں محروم رہ جاتا ہے۔اس کا بڑا باعث ہے خویش و اقارب دوستوں اور قوم کے تعلقات کو ایسا مضبوط کر لیتا ہے کہ وہ ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا تو ایسی صورت میں ناممکن ہے کہ یہ نجات کا دروازہ اس پر کھل سکے۔ایک قسم کی نامردی اور کمزوری ہے۔لیکن یہ شہیدوں اور مردوں کا کام ہے کہ ان تعلقات کی ذرا بھی پرواہ نہ کرے اور خدا تعالی کی طرف قدم اوٹھائے۔بعض کمزور فطرت لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ خدا تعالی کی عبادت ہی کرنی ہے خواہ کسی مذہب میں ہوں۔مگر وہ نہیں جانتے کہ آج جس قدر مذاہب موجود ہیں ان میں کوئی بھی مذہب بجز اسلام کے ایسا نہیں جو اعتقادی اور عملی غلطیوں سے مبرا ہو۔وہ سچا اور زندہ خدا جس کی طرف رجوع کر کے انسان کو حقیقی راحت اور آرام ملتا ہے۔جس کے ساتھ تعلق پیدا کر کے انسان اپنی گناہ آلودہ زندگی سے نجات پاتا ہے۔وہ اسلام کے سوامل نہیں سکتا۔یہی پہلا زینہ ہر قسم کی روحانی ترقیوں کا ہے۔اگر اس کی توفیق مجاوے تو پھر خدا و سکا اور وہ خدا کا ہو جاتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب ایک شخص محض اللہ تعالٰی کی رضا کے لئے کسی قسم کے نفسانی اغراض کے بغیر ایک قوم سے قطع تعلق کرتا ہے اور خدا ہی کو راضی کرنے کے لئے قوم میں داخل ہوتا ہے۔تو ان تعلقات قومی کے توڑنے میں سخت تکلیف اور دکھ ہوتا ہے۔مگر یہ بات خدا تعالی کے نزدیک بڑی قابل قدر ہے اور یہ ایک شہادت ہے۔جس کا بہت بڑا اجر اللہ تعالیٰ کے حضور ملتا ہے۔کیونکہ اللہ تعالی تو فرماتا ہے۔من يعمل مثقال ذره خیرایره یعنی جو شخص ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرتا ہے اور خدا کی رضا کے لئے ایک موت اپنے لئے روا رکھتا ہے۔اسے اجر کیوں نہ ملے ؟ جو شخص خدا تعالی کے لئے اپنے تعلقات کو توڑتا ہے وہ فی الحقیقت ایک موت اختیار کرتا ہے۔کیونکہ اصل موت بھی ایک قسم کا قطع تعلق ہی ہے۔یعنی روح کا جسم سے قطع تعلق ہوتا ہے خدا تعالی کے لئے ان تعلقات کو توڑنا جو اپنی قوم اور خویش و اقارب سے ہوتے ہیں خدا کے نزدیک بہت بڑی بات ہے۔بسا اوقات یہ روک بڑی زبر دست روک انسان کی طرف آنے کے لئے ہو جاتی ہے۔وہ دیکھتا ہے کہ دوستوں کا +