بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 73 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 73

73 نسبت اس رائے کا اظہار فرمایا کہ اس صدی میں رسالہ انوار الاسلام ایک مجدد کا کام دے رہا ہے بلکہ جس کام کے واسطے انبیاء علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے ، اس کی انجام دی میں سرگرم عمل ہے۔" انوار الاسلام ۱۵ مارچ ۱۹۰۱ء صفحه (۳۱) منشی کریم بخش صاحب کے بعد مولانا منشی رحیم بخش صاحب نے رسالہ کی ادارت سنبھالی۔آپ نے رسالہ کی جلدے نمبر کے صفحات اا سے ۱۶ میں ایک ناصح کے چند کلمات" کے عنوان سے درج ذیل مضمون سپرد اشاعت فرمایا۔یہ مضمون حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی ایک تقریر کی ہو بہو نقل ہے جو آپ نے ۹ اگست ۱۹۰۵ء کو ارشاد فرمائی اور ہفت روزہ الحکم قادیان مورخہ ۷ اگست ۱۹۰۵ء میں شائع ہوئی۔ایک ناصح کے چند کلمات ”سب سے بڑی بات تو دین ہے جس کو حاصل کر کے انسان حقیقی اور روحانی راحت کو حاصل کرتا ہے۔دنیا کی زندگی تو بہر حال گذر جاتی ہے۔شب تنور گذشت و شب سمور گذشت یعنی راحت اور رنج دونوں گزر جاتے ہیں۔لیکن دین ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر چل کر انسان خدا کو راضی کر لیتا ہے۔یقیناً جانو کہ اللہ تعالٰی اس وقت تک راضی نہیں ہوتا اور نہ کوئی شخص اس تک پہنچ سکتا ہے جب تک صراط مستقیم پر نہ چلے۔وہ اس وقت ہو سکتا ہے جب اللہ تعالی کی ذات صفات کو شناخت کرے اور ان راہوں اور ہدایتوں پر عمل در آمد کرے جو اس کی مرضی اور منشاء کے مواقع ہیں۔جب یہ ضروری بات ہے تو انسان کو چاہئے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور یہ کچھ مشکل امر نہیں۔دیکھو انسان پانچ سات روپیہ کی خاطر جو دنیا کی ادنیٰ ترین خواہش ہے۔اپنا سر کٹا لیتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا خیال ہو اور اسے راضی کرنا چاہئے تو کیا مشکل ہے۔