بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 7 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 7

7 ماه دسمبر ۱۹۱۳ء میں آل انڈیا محمڈن اینگلو اور ینٹیل ایجو کیشنل کانفرنس کا ستائیسواں اجلاس اگرہ میں منعقد ہوا۔خواجہ غلام الثقلین نے اپنے خطبہ صدارت میں خاص طور پر ان مشاہیر کا ذکر کیا جنہوں نے اردو کی ترقی میں نمایاں حصہ لیا۔اس ضمن میں آپ نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو ان مایہ ناز ہستیوں کی صف میں شمار کیا جن کو آج اردو زبان میں بطور سند پیش کیا جاتا ہے۔مثلاً پروفیسر آزاد مولانا حالی، سرسید احمد خاں داغ امیر جلال لکھنوی۔، ، (دیکھئے رپورٹ اجلاس مذکور صفحہ ۷۶) حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا پیدا کردہ لٹریچر زیر دست جامعیت کا حامل ہے اور ہر دور کے پیش آمدہ مسائل میں اس سے رہنمائی حاصل کی جا سکتی ہے اور بے شمار مضامین علوم بیج کے طور پر اس میں موجود ہیں۔موجودہ تحقیق کے مطابق آپ کے لٹریچر سے جن مضامین کی خوشہ چینی کی گئی ہے وہ اصولی اعتبار سے مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت آتے ہیں۔حمد باری تعالٰی عظمت قرآن مجید شان مصطفى الالم تصوف اخلاقیات فلسفه احکام شریعت علم الارواح علم مکاشفه اظهار خیال کے دو طریق ہیں۔تحریر اور تقریر۔تحریر شعر و سخن اور نثر نگاری دونوں سے عبارت ہے اور دونوں کو ہی بے حوالہ زیب قرطاس کیا گیا ہے۔