بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 60
60 تركوا الغبوق وبدلوا من ذوقه ذوق الدعاء بليلة الاحزان انہوں نے شام کی شراب چھوڑ دی اور اس کی لذت کی بجائے راتوں میں دعا کی ازت اختیار کی۔كانوا برنات المثاني قبلها قد احصروا في شحها كالعاني اس سے پہلے وہ دو تاروں کی سروں کی محبت میں قیدوں کی طرح گرفتار تھے۔قد كان مرتعهم اغاني دائما طورا بغيد تارة بدنان ہمیشہ ان کی فرحت خوشی کا میدان راگ رنگ تھا کبھی نازک اندام عورتوں کے اسیر اور کبھی شراب کے گرفتار۔ما كان فكر غير فكر غوانی او شرب راح او خیال جفان حسینہ عورتوں سے دل بستگی کے سوا اور کچھ فکر ہی نہ تھی۔یا شراب نوشی یا سامان خور و نوش کا تصور تھا۔كانوا كمشغوف الفساد بجهلهم راضين بالاوساخ والادران بے وقوفی سے فساد کے شیفتہ تھے۔میل کچیل اور ناپاکی پر خوش تھے۔عيبان كان شعارهم من جهلهم حمق الحمار و وثبة السرحان جہالت سے دو عیب تو ان کے شامل حال تھے۔آڑ گدھے کی سی اور حملہ بھیڑیے کا۔