بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 6
6 موجودہ زمانہ کی اختراع ہے، جس کا منظر عام پر لانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے اور وہ یہ ہے کہ اہل قلم حضرات بانی سلسلہ احمدیہ کے کلام منظوم اور کلام منشور سے استفادہ کرتے ہیں اور اسے لفظاً لفظا یا معمولی تغیر کے ساتھ اپنی طرف یا کسی اور شخصیت کی طرف منسوب کر کے پھیلا رہے ہیں۔یہ رجحان روز بروز جس کثرت سے بڑھ رہا ہے۔صفحہ ہستی پر اس کی کوئی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔اس نوع جدید کے موجدوں اور خوشہ چینوں میں شعرائے عظام ، مفتیان کرام مقتدر صحافی پیران طریقت، نامور مناظر اور منبر و محراب کے مسند نشین، شعلہ نواخطیب، نامور ماہرین تعلیم اور شہرت یافتہ قانون دان اور وکلاء غرض کہ ہر مکتب خیال سے تعلق اور شغف رکھنے والی چالیس معزز اور محترم شخصیات شامل ہیں۔یہ دلچسپ سلسلہ بر صغیر سے نکل کر بعض بیرونی ممالک تک جا پہنچا ہے اور پر لطف بات یہ ہے کہ بانی احمدیت کی تصانیف پر تنقید اور ان کی ضبطی کے مطالبات بھی مدتوں سے برابر جاری ہیں۔اشاعت علم و ادب کے اسی انداز فکر کو ہم نے بیسویں صدی کے علمی شاہکار سے موسوم کیا ہے اور آئندہ اوراق میں اس کی حیرت انگیز تفصیلات اور جزئیات پر روشنی ڈالی جا رہی ہے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا بلند پایہ لٹریچر اردو، عربی اور فارسی کی اٹھاسی (۸۸) تالیفات پر مشتمل ہے۔نیز آپ کے اشتہارات مکتوبات اور ملفوظات کا بیش بہا ذخیرہ اس کے علاوہ ہے۔جن اکابر ملت نے آپ کی گراں مایہ کتب کو خراج تحسین ادا کیا ہے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔امام الہند مولانا ابوالکلام صاحب آزاد مرزا حیرت دہلوی صاحب ، مولانا محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار ، پروفیسر سید عبد القادر صاحب مورخ اسلام مصور فطرت خواجہ حسن نظامی صاحب مولانا عبد الماجد صاحب دریا آبادی مدیر صدق ، مولانا نیاز فتح پوری، مولانا شجاع الله خان مدیر ملت مولانا سید حبیب صاحب مدیر سیاست۔