بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 37
چاہتا۔37 دل زارم به پهلویم مجوسید که ستیمش بدامان محمد میرے زخمی دل کو میرے پہلو میں تلاش نہ کرو کہ اسے تو ہم نے محمد علی کے دامن سے باندھ دیا ہے۔ہے۔من آں خوش مرغ از مرغان قدسم که دارد جا بستان محمد طائران قدس میں سے وہ اعلیٰ پرندہ ہوں جو محمد ملی امی کے باغ میں بسیرا رکھتا تو جان مامنور کر دی از عشق فدایت جانم اے جان محمد تو نے عشق کی وجہ سے ہماری جان کو روشن کر دیا اے محمد علی تجھ پر میری جان فدا ہو۔دریغا گر دہم صد جان دریں راہ نباشد نیز شایان محمد اگر اس راہ میں سو جان سے قربان ہو جاؤں تو بھی افسوس رہے گا کہ یہ محمد ی کی شان کے شایان نہیں۔چه بیست با بداوند این جوان را که ناید کس به میدان محمد اس جوان کو کس قدر رعب دیا گیا ہے کہ محمد علیم کے میدان میں کوئی بھی (مقابلہ) پر نہیں آتا۔الا اے دشمن نادان و بے راہ بترس از شیخ بران محمد