بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 26 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 26

26 ١٣ ee ۱۲ کریما صد گرم کن بر کسی کو نا صر طب بست بلائے ادیگر و ان گر گئی آفت شود پیدا چنان خوش دار او را اے خدائے قادر مطلق کہ در ہر کاروبار حال او فرحت شود پیدا ۱۴- می بینم کو درد ار قدیم و پاک میخواهد که باز آن قوت اس علم و آن شوکت شور پیدا " مجله طیبہ کے سر پرست حکیم محمد واصل خان صاحب سیکرٹری مدرسہ طیبہ دہلی تھے اور نگران اعلیٰ مسیح الملک حکیم حافظ محمد اجمل خاں صاحب رئیس دہلی۔رسالہ کے ایڈیٹر نے شاہی حکیم مخدوم محمد اعظم صاحب کا مراسلہ مع طبی اشعار کے یکم اگست ۱۹۰۳ء کے شمارے میں صفحہ ۳۴٬۳۳ پر شائع کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ مخدوم محمد اعظم صاحب نے یہ نظم دس سال قبل چھپنے والی کتاب " آئینہ کمالات اسلام" (مولفہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ) کی ایک نظم کو بے دردی کے ساتھ مسخ کر کے تیار کی تھی اور اپنے ہمعصر اطباء سے خراج تحسین وصول کرنے کے لئے نہایت بے ادبی کے ساتھ "اسلام" اور "دین" کے الفاظ کو ” طب" وغیرہ الفاظ میں بدل ڈالا تھا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی نظم جو کتاب کے سرورق کے صفحہ ۲ پر طبع ہوئی ۲۱ مشتمل ہے جن میں سے چودہ ۱۴ متعلقہ اشعار معہ ترجمہ ہدیہ قارئین کئے جاتے اشعار پر ہیں:۔بکوشید اے جواناں تابدین قوت شود پیدا بہارو رونق اندر روضه ملت شود پیدا اے جوانو! کوشش کرو کہ دین میں قوت پیدا ہو۔اور ملت اسلام کے باغ میں بہار اور رونق آئے۔اگر یاراں کنوں پر غربت اسلام رحم آرید۔با صحاب نبی نزد خدا نسبت شود پیدا اے دوستو! اگر اب تم اسلام کی غربت پر رحم کرو تو خدا کے ہاں تمہیں آنحضرت م کے صحابہ سے مناسبت پیدا ہو جائے۔