بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 232
232 وہ موت ہے پر آخر کو زندہ کرتی ہے وہ ایک تندرسیل ہے پر آخر کو کشتی بن جاتی ہے، ہر ایک بگڑی ہوئی بات اس سے بن جاتی ہے اور ہر ایک زہر اس سے آخر تر بان ہو جاتا ہے، ذرا غور تو کریں حضرت بابا جی رحمۃ اللہ علیہ کے مشقت آمیز لیے سفروں اور طویل عبادتوں کا، ناز معکوس کی مورت شدید ترین تکالیف اٹھا کر یا ایک موت جو خود یه دارد کر کے حضرت بابا جی دعائیں کرتے پھر کیونکہ آپ کی دعائیں کرامتوں اور خوارق کے رنگ میں ظاہر نہ ہو تیں۔حضرت بابا جی رحمتہ اللہ علیہ نے جو عملی زندگی دنیا میں اپنائی اور جس خدا کا مخلوق یہ خدا سے تعارف کرایا اسکی رحمتوں اور برکتوں کا کوئی انتہاء نہیں آپ نے اپنے عقیدتمندوں کو خوب بتایا اور سمجھایا کہ خداتعالی بڑا کریم ہے، اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو کبھی ختم نہیں ہو سکتا اور جس کو تلاش کرنے والا کبھی محروم نہیں رہا اسلئے چاہئے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو کیونکہ دعا مانگنا اللہ تعالی کی قدرت کے عین مطابق ہے مثلاً عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے ، اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہوکر اس کو دودھ دیتی ہے الد بنیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا ، جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازے پر گر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے، تو الوہیت کا گرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتاہے، اللہ تعالی کے فضل کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے اسلئے اس کے حضور رونے والی آنکھ پیش کرنی چاہئے یہی کہ میمنت وحالت ہے حبیب قلب در درج پر پوری طرح حادی اور متولی ہو جائے۔تب ایک عاشق و سالک حضرت بابا جی کے تبرکات فرید یہ دربارہ دعا اور اس کی تاثیرات کا عرفان حاصل کر سکتا ہے۔