بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 231
231 ۱۶۱ اسباب کو پیدا کر دیتا ہے اسی لئے یہ بات ارباب کشف و کمال کے نزدیک بڑے بڑے تجارب سے ثابت ہو چکی ہے کہ کامل دعا میں ایک قوت تکوین پیدا ہو جاتی ہے یعنی باذنه تعالی دو دعا عالم سفلی اور علم علوی ہیں تصرف کرتی ہے اور عناصر اور اجرام نلکی اور انسانوں کے دلوں کو اس طرف لے آتی ہے جو طرف موید مطالب ہے ، خدا تعالے کی پاک کتابوں میں اس کی نظریں کچھ کم نہیں ہیں بلکہ اعجاز کی بعض اقسام کی حقیقت بھی در اصل استجابت دعا ہی ہے اور جس قدر ہزاروں معجزات انبیاء سے ظہور میں آئے یا جو کہ اولیا۔ان دنوں تک عجائب کرامات دکھلاتے رہے ان کا اصل اور منبع یہی دعا ہے اور اکثر دعاؤں کے اثر سے ہی طرح طرح کے خوارق قدرت قادر کا تماشہ دکھلا رہے ہیں" عا حضرت بابا جی رحمتہ اللہ نے قبولیت دعا کی شرائط بھی تفصیل سے گنوائی ہیں، راحت القلوب کے مطابق پہلی شرط تو یہ ہے کہ ہر ا دادن جل جلالہ ہم نوالہ کے نام پاک سے شروع کی جائے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وکم فرماتے ہیں۔أسر ذى باللَمْتُ وفيه فهو ابتر کہ جو ہم کام اللہ کے نام کے ساتھ شروع نہیں کیاگیا وہ بے برکت ہے یعنی بخرد خوبی انجام نہیں پاتا " حضرت بابا جی نے جس انداز میں بی بی عبادات کے ساتھ دعائیں کی ہیں اس سے روشنی ملتی ہے کہ محض رسمی طو پر دعاکر لیتا کو ئی چیز نہیں جب تک قلب و روح پگھل کہ دعا کو ایک خاص چک نہ دے رہے ہوں اس لئے یہ مت خیال کر کہ ہم روز دعا اس کرتے ہیں اور تمام نماز دعا ہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں کیونکہ دو دعا جو معرفت کے بعد اور افضل کے ذریعہ سے پیدا ہوتی ہے وہ اور رنگ اور کیفیت رکھتی ہے وہ فنا کرنے والی چیز ہے ، وہ گداز کرنے والی آگ ہے، وہ رحمت کو کھینے والا اک نام کش کشدید