بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 230 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 230

i 230 197 فرمایا کرتے کہ ليس شي اكبر عبد الله من الدعاء کہ خدا کے حضور دعا سے بڑی مِنَ کوئی چیز نہیں اسی طرح ان الله يُحب المسلمين في الله عام که خداوند تعالی مسلمانوں کو دعا کرنے کے وقت محبوب رکھتا ہے، اسی طرح حضرت باباجی پوری معرفت کے ساتھ جانتے تھے کہ دعا کیا ہے، دعا زندہ اور قادر مطلق خدا کے ساتھ سچے عاشق و سالک کا زندہ تعلق درابطہ ہے، دعا ہی کے ذریعہ سالک کو مقام محبوبی ملتا ہے اور ایسی شان مظہر نیت کہ جس میں پوری صفات الہیہ کا ظہور ہونے لگتا ہے ، عاشق کے لب ہلتے ہیں تو کائنات میں تغیرات ہونے لگتے ہیں۔دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب کے درمیان تعلق مجاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالے کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدقی کے کششوں سے خدا تعالیٰ اس کے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص طبعیہ پیدا کرتا ہے، سوجس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالی کی طرف کامل یقین اور کامل امید در کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پر دور کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے ، پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، تب اسکی روح اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے ، وہ خدا تعالے کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے، تب اللہ جل شانہ ، اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اثرات پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل کرنے کیلئے ضروری ہیں مثلا اگر بارش کیلئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبعیہ جو بارش کیلئے مزدوری ہوتے ہیں، اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور قحط کے لئے بد دعا ہے تو قادر مطلق مخالفانہ