بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 203
203 باب و حقیقی نیکیاں جو ہر ایک قوت کے متعلق اور ہر ایک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں۔بجا لادے۔مگر ایسے ذوق شوق و حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئین میں اپنے مو قیقی کے چہرہ کو دیکھ رہا ہے۔پھر بقیہ ترجمہ آیت مذکورہ بالا کا یہ ہے کہ جس کی اعتقادی و علی صفائی اپنی محبت ذاتی پینی ہو۔اور ایسے طبعی جوش سے اعمال حسنہ اس سے تصادر ہوں۔وہ وہی ہے جو عند اللہ سحق اجر ہے۔اور ایسے لوگوں پر نہ کچھ خون ہے۔اور نہ وہ کچھ غم رہتے ہیں یعنی ایسے لوگوں کے لئے نجات نقد موجود ہے۔کیونکہ جب انسان کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر ایمان لا کر اس سے موافقت نامہ ہوگئی اور ارادہ اس کا خدا تعالیٰ کے ارادہ کے ہمرنگ ہو گیا۔اور تمام لذت اس کی تابع فرمان الہی میں ٹھہر گئی۔اور جمیع اعمال مصالح نہ شفقت کی راہ سے بلکہ بلڈ اور اقتطاف کی ف شش سے صادر ہونے لگیں۔تو یہی وہ کیفیت ہے جس کو فلاح اور سنگاری سے موسوم کرنا چاہیئے اور عالم آخرت میں جو کچھ نجات کے متعلق مشہور ومحسوس ہوگا۔وہ درحقیقت اسی کیفیت راسخہ کے اطلال و آثار ہیں۔جو اس جہان میں جسمانی طور پر ظاہر سو جائیں گے مطلب یہ ہے کہ بہشتی زندگی اسی جہان سے شروع ہو جاتی ہے۔او مینی عذاب کی وجہ بھی اسی جہان کی کورانہ زیست اور ناپاک زندگی ہے۔اب آیت ممدوحہ بالا پر ایک نائت نظر ڈالنے سے ہر ایک سلیم العقل سمجھ سکتا ہے کہ اسلام کی حقیقت تب کسی شخص میں سحق ہو سکتی ہے کہ جب اس کا وجود معہ اپنی تمام باطنی و ظاہری قوئی کے محض خدا تعالیٰ کے لئے اس کی راہ میں وقف ہو جاؤ نے اور جوامانتیں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں پھر اس معلی حقیقی کو واپس دی جائیں۔اور نہ صرحت اعتقادی طور پر بلکہ عمل کے آئینہ میں بھی اپنے اسلام اور اس کی حقیقت کا ملہ کی ساری شکل دکھلائی جا د سے یعنی شخص مدعی اسلام یہ بات ثابت کر دیو ہے۔کہ اس کے ہاتھ پاؤں۔دل اور دماغ اور اس کی عقل اور اس کا فہم اور اس کا غضب اور رحم اور اس کا علم و علم اور اس کی تمام روحانی اور جسمانی قوتیں اور اس کی عزت اور اس کا مال اور اسکا رام اور شور جوکچھ اس کے سر کے بالوں سے پاؤں کے ناخنوں تک باعتبار ظا ہر و باطن کے ہے۔یہاں تک کہ اس کی نیات اور اس کے دل کے خطرات اور اس کے نفس کے ت شب خدا تعالی کے ایسے تابع ہو گئے ہیں۔کہ جیس طرح ایک شخص کے اعضا ر اس کے بن تابع ہوتے ہیں۔غرض یہ ثابت ہو جا ئے۔کہ قدم صدق اس درجہ تک پہنچ گیا ہے کہ جو کچھ اس کا ہے۔وہ اس کا نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا ہوگیا۔اور تمام اعضاء اور قوی الہی خدمت میں ایسے لگ گئے ہیں۔گویا وہ جواراج الحق میں اسے اسلام چیز کیا ہے۔خدا کے لئے نیا ترک رضائے خویش پے مرضی خدا جو مر گئے انہی کے نصیبوں میں ہو یا اس راہ میں زندگی نہیں ملتی بجز مات 4