بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 202 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 202

باب ۹ 202 WIL حقیقت اسلام بنتا ، اب بندہ کچھ اس کی تشریح درج کرتا ہے۔ار اس تشریح سے مراد یہ ہے کہ ناظرین کو معلوم ہو کہ آپ کا یہ فرمانا کہ دین ہی سعی کرو اور اسلام کی حقیقت کو سمجھو۔اس کی تشریح ذیل میں درج کی جاتی ہے۔حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی قدس سرہ العزیز اس آئت ذیل کی شرح یوں فرماتے ہیں یا اها KANGAN انو الصواب اللہ و رسول ہے دینی اسے ایمان والو ایمان لاؤ اللہ پر اور رسول اُس کے پر، آپ فرماتے ہیں ایمان یہ تانی سے مراد یہ ہے کہ مجازی ایمان سے گذر کرحقیقی ایمان حاصل کرو۔حضرت شیخ اکبرمحی الدین بن عربی رحمہ اللہ علیہ فتوحات مکیہ میں جو حقیقت اسلام تحریر فرماتے ہیں۔درج کی جاتی ہے۔آپ کہتے ہیں۔کہ جب انسان مجالت سلوک الی اللہ ایسے مقام میں پہنچ جاتا ہے کہ وہ جنات رضی اورخواہشات دینیہ سے پاک اور منزہ ہو جاتا ہے۔اور اس پر ایک قسم کی محوریت اور بودگی طاری ہو جاتی ہے۔اور ہر چیزمیں اس کو نور الہی کا تجلی نظر آتا ہے ہے بزیر پردہ ہر ذرہ پنہاں جمال جاں فزا ئے روئے جاناں سالک اس مقام میں عالم وما فیہا اوراپنی تمام حرکات و سکنات بلکہ اپنے وجود کے ہر ذرہ کو اس نور میں گم دیکھتا ہے اور حقیقت اسلام کا چہرہ دکھائی دینے لگتا ہے جس کی تفصیل حوالہ قرآن کریم ہم سواری اور آئندہ رموز کے سمجھنے کے لئے ذیل میں لکھ دیتے ہیں۔تاکہ فتوحات مکیہ میں جہاں جہاں حقیقت اسلام کور موزمیں بیان کیا گیا ہے۔ناظرین ان کو سہولیت سمجھ سکیں۔واضح ہو۔کہ اسلام عربی لفظ ہے جس کے معنی ہماری اردو زبان میں بطور پیشگی ایک چیز کا مول دنیا اور کس کو اپنا کام سونپنا اور طالب صلح ہونا اور کی امر یا خصومت کو چھوڑ دیا۔اور اصطلاحی معنی وہ ہیں جن کا قرآن کریم کی اس آیت ذیل میں اشارہ ہے۔۔آیت۔عَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنَ فَلَهُ أَجْرُهُ عِندَ رَتِهِ وَلَا خَونَ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ یعنی مسلمان وہ ہے جو خداتعالی کی راہ میں ان تمام وجود کو سونپ دے یعنی اپنے تمام وجود کو اللہ تعالے کے لئے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لئے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے وقف کرتی ہے۔اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالی کے لئے قائم ہو جائے۔اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا ہے مطلب یہ ہے کہ اعتقادی اور عملی طور پر حض خدا تعالی کا ہو جائے۔اعتقادی طور پر اس طرح کہ اپنے قام وجود کو دو حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ ہے۔جوخدا تعالیٰ کی شناخت اور اس کی اطاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے بنائی گئی ہے۔اور عملی طور پراس طرح کہ خالصاً للہ