بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 19 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 19

19 طبیبیوں سے ملے سب سے دوائیں پوچھیں ایسا عرفان کا نسخہ نہ ملا اور کہیں س پر لئے امریکہ و افریقہ تا چیں سب جهان چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں ے عرفاں کا بس ایک ہی شیشہ نکلا نہیں قرآن کی اس کون و مکاں میں تشبیہ نظم فطرت وہ اعجازی نشان میں تشبیہ ہے نہیں اس کی کسی عظمت و شاں میں تشبیہ کس سے اس نور کی ممکن ہے جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا اس کے ہر نکتہ میں نور الہی کا ظہور اس کے انوار سے مومن کا ہے سینہ معمور اس کے جلوہ سے ہیں تاریکیاں ساری کافور ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد نیر بیضا نکلا ایسے خورشید پر انوار سے جو دور رہیں وہ تو اندھوں سے بھی بدتر ہیں جو بے نور رہیں روح مردہ ہوئی ان کی تو یہ ہم صاف کہیں زندگی ایسوں کی بس خاک ہے اس دنیا میں جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اعمی نکلا جس کو اللہ کا ملنا ہو جہاں میں مطلوب وہی قرآن کو رکھتا ہے ہمیشہ محبوب سب غذاؤں سے یہی دل کی غذا ہے مرغوب اللہ اللہ ہے یہ عرفاں کا نسخہ کیا خوب آج تک ایسا نہ شافی کوئی نسخہ نکلا کون کہتا ہے کہ قرآن ہے مجمل صامت اس کا ہر قول مفصل ہے وہ تبیاں نکلا اور کہتے ہیں کہ قرآن کی سمجھ ہے مشکل اس کا ہر لفظ مفسر ہے وہ آسان نکلا پاک وہ جس سے سے یہ انوار کا دریا نکلا ر ساله تعلیم ترجمه القرآن ص ۱۲ - ۱۳ مطبوعہ مطبع کریمی تلمکھڑی مدراس) قارئین حضرات کو یہ معلوم کر کے حیرانی ہوگی کہ اس نظم کے بیشتر مصرعے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی معرکہ آراء کتاب براہین احمدیہ حصہ سوم صفحه ۲۷۴ (مطبوعہ ۱۸۸۲ء) سے اخذ کئے گئے ہیں۔پوری نظم درج ذیل کی جاتی ہے تایہ اندازہ لگایا جاسکے کہ آپ کے قلم سے نکلا ہوا کلام کس شان کا حامل ہے۔