بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 169 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 169

169 93 بر وهن وانتم عالمون في المسجد تلك حدود الله فلا تقربوها كذلك بيان الله التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ۔تَقْرَبُوهَا كَذلِكَ بتیسوان عظ در بیان فضائل ماہ رمضان ے عزیز و سنو کہ بے قرآں حق کو پاتا نھیں کبھی انساں جن کو اس نور کی خبر ہی تھیں ان پہ نیکی کا کچھ اثر ہی تھ پر تھیں ہے یہ فرقان میں اک عجیب اثر اس سے ملتا ہے خالق آ کوئے حق میں یہ کھینچ لاتا دل میں وقت نور بھرتا راہ نیکی کی یہ دکھاتا۔پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا سینے کو خوب صاف کرتا کجروی سے یہی بچاتا شرک کو دل سے دور کرتا ہے کبر و نخوت کو چور کرے کرتا سینے میں نقش حق جماتا۔ہے دل سے غیر خدا اٹھاتا ہے بحر حکمت سے یہ کلام تمام عشق حق کا پلاتا ہے یہ جام دل کے اندھوں کی ہے دوا یہ ہی سرمہ ہے بس خدا نما یہ می اس کے منکر جو بات کہتے ہیں سر بسر واہیات کہتے ہیں دل سے حق کو بھلا دیا ہیہات دل کو پتھر بنا لیا ہیہات مفسریں نے لکھا ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے پہلے رمضان میں پورا نازل ہو گیا تھا اور وہاں سے وقتا فوقتا بحسب ضرورت رسول الله صلے اللہ علیہ آلہ وسلم پر نازل ہوتا رہا غرض یہ وہ مہینہ مباک ہو کہ جس میں تمہارے مذہب کی بنیاد قائم ہوئی۔کیونکہ قرآن مجید و فرقان حمید جو دین اسلام کی بنائے ہے اسی مہینے میں نازل ہوا اس سے زیادہ با عظمت زبانہ اور کون ہو گا۔اس لئے تمہیں چاہئیے کہ ہر سال اس مہینے ہیں خدا کی عظیم الشان نعمت کو یاد کر کے اس کی شکر گزاری کیا کرو۔اور جو طریقہ عرسبحانہ نے اپنی شکر گزاری کا بتایا ہے اس پر دل و جان سے عامل یہ ہو چنانچہ اس نے اپنی شکر گزاری کا طریقہ اس مہینے ہیں یہ قرار دیا ہے۔