بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 162
" 162 ۱۰۴۰ در مدح قرآن کریم جمال دین قرآن نور جان پر سلمان ہے تم سے جانداروں کا ہارا ان قرآن ہے نظر اسکی نہں ملتی بہت کچھ غور کردیکھا پھل کیونکر ہو کیا کام پاک رحمان ہے بہار جاوداں پیدا ہو اسکی ہر عبارت میں نہ وہ خوبی چین میں ہر نہ اس سا کوئی بستانی کلام پاک یزداں کا نہیں ثانی کوئی ہرگز اگر لو لوئے عمان سے گر لعل بدخشاں ہے خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برا بر ہو وہاں قدرت یہاں ماندگی فرق نمایاں ہے بلانکی نیکی حضر میں کریں اقرار لا علمی : سخن میں اسکے ہمائی کہاں مقدور انسان کے بناسکتا ہیں ہرگز ہر اک پاؤں کپڑے کا تو پیر کو کرنانا نوری کا آسیہ اساں ہے لیون حق کا ارے لوگو کرو کہہ پاس شان کی رائی کا زبان کو تھام لواب بھی اگر کچن ہوئے ایام سے خدا کا غیر کو مہربانا سخت گراں ہے فالسے کچھ ڈر وا روا یہ کیا کذب رہتا ہے اگر قرار می نگو خدا کی ذات واحد کا تو غیر کیوں استعد دو میں تمہارے تک پنہاں ہے کی یہ کیسے پڑگئے اور یہاں جہال کے پرے رقمه رویارو! خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچی خوف یزداں ہے "