بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 157
157 et کتاب " مقام فرید کے بریلوی مسلک کے مولف حضرت علامہ محمد اقبال صدیقی " کے قلم پر حضرت باباجی کی روح مقدس" یا اپنے پیرو مرشد حضرت صاحبزادہ غازی فضل احمد رضا" کی " نظر کرم" سے دعا کی نسبت جو کچھ جاری ہوا وہ اکثر و بیشتر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ ہی کے مبارک الفاظ میں تھا۔چنانچہ آپ تحریر فرماتے ہیں:۔"حضرت باباجی پوری معرفت کے ساتھ جانتے تھے کہ دعا کیا ہے ، دعا زندہ اور قادر مطلق خدا کے ساتھ سچے عاشق و سالک کا زندہ تعلق و رابطہ ہے۔دعا ہی کے ذریعہ سالک کو مقام محبوبی ملتا ہے اور ایسی شان مظہریت کہ جس میں پوری صفات الہیہ کا ظہور ہونے لگتا ہے، عاشق کے لب ہلتے ہیں تو کائنات میں تغیرات ہونے لگتے ہیں۔" دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اور اس کے رب کے درمیان تعلق مجاز بہ ہے یعنی پہلے خدا تعالی کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کے کششوں سے خدا تعالی اس کے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر نواس طبعیہ پیدا کرتا ہے، سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا رائی کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفاداری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہو افتا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے ، پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہ الوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں، تب اس کی روح اس کے آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوت جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے۔وہ خدا تعالی کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے، تب اللہ جل شانہ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اثرات پر ڈالتا ہے جس سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل کرنے کے لئے ضروری ہیں مثلاً اگر بارش کے لئے دعا ہے تو بعد استجابت دعا کے وہ اسباب طبعیہ جو بارش کے لئے ضروری ہوتے ہیں اس دعا کے اثر سے پیدا کئے جاتے ہیں اور قحط کے لئے بدعا ہے تو قادر مطلق -