بیسویں صدی کا علمی شاہکار

by Other Authors

Page 156 of 232

بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 156

156 جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زار و نزار (صفحه ۹۶) قرآن مجید کی منقبت میں بانی سلسلہ احمدیہ کا مشہور شعر ہے:۔قرآں خدا نما ہے خدا کا کلام ہے بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے (براہین احمدیہ حصہ پنجم طبع اول تصنیف ۱۹۰۵ء) حضرت علامہ اقبال صدیقی صاحب نے حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے فرمودات میں اس شعر کا مصرعہ ثانی اس شان سے پیوست کیا ہے کہ راہ طریقت کے ہر سالک کی روح وجد میں آجاتی ہے چنانچہ فرماتے ہیں۔حضرت بابا جی کے فرمودات فضائل تلاوت کے سلسلہ میں بے شمار ہیں جن کا حاصل یہی ہے کہ اصل زندگی سارے حواس اور ساری توجہ اور ساری توانائیاں قرآن کریم کی طرف مبذول کرنے میں مضمر ہے اس کے بغیر کسی طرح کی کامرانی فلاح یا قرب الہی کا تصور موہوم محض ہے۔بے اس کے معرفت کا چمن ناتمام ہے۔" (صفحه ۱۵۲۱۵۱) اس کتاب کی روح رواں یا نقطہ عروج "فضائل ادعیہ " کا نہایت اہم مضمون جو ۱۵۹ تا ۱۶۲ صفحات کی زینت ہے اور جس میں دعا کی کیفیت و قبولیت پر تبصیرت افروز رنگ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔قبولیت دعا کا چلتا پھرتا نشان بارگاہ الہی کے مقبول اور عارف بندے ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ انہی کو رب العرش سے ذاتی تعلق ہوتا ہے۔وہی اپنے رب سے ہمکلام ہوتے ہیں اور انہی کو دعاؤں کی حیرت انگیز تاثیرات پر زندہ ایمان و عرفان حاصل ہوتا ہے۔عہد حاضر میں اس تجربہ و مشاہدہ کی منادی جس قوت اور شوکت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے بانی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے اپنی کتابوں اور ملفوظات میں کی ہے اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔یہی وجہ ہے کہ