بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 143
143 جس جگہ کسی کوہ آتش فشاں سے پتھر برستے ہیں یا بجلی پڑتی ہے۔یا ایک خونخوار شیر کے حملہ کرنے کی جگہ ہے ؟ یا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ایک ملک طاعون نسل انسان کو معدوم کر رہی ہے ؟ پھر اگر تمہیں خدا پر ایسا ہی یقین ہے۔جیسا کہ سانپ پر یا بجلی پر یا شیر پر یا طاعون پر تو ممکن نہیں کہ اس کے مقابل پر تم نافرمانی کر کے سزا کی راہ اختیار کر سکو یا صدق و وفا کا اس سے تعلق توڑ سکو۔“ (صفحه (۶۱) پانچواں اقتباس "اے عزیز و ا تم تھوڑے دنوں کے لئے دنیا میں آئے ہو اور وہ بھی بہت کچھ گزر چکے۔سو اپنے مولا کو ناراض مت کرو۔ایک انسانی گورنمنٹ جو تم سے زبر دست ہو۔اگر تم سے ناراض ہو تو وہ تمہیں تباہ کر سکتی ہے۔پس تم سوچ لو کہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے کیونکر تم بچ سکتے ہو ؟ اگر تم خدا کی آنکھوں کے آگے متقی ٹھر جاؤ تو تمہیں کوئی بھی تباہ نہیں کر سکتا اور وہ خود تمہاری حفاظت کرے گا اور جو دشمن تمہاری جان کے درپے ہے تم پر قابو نہیں پائے گا۔ورنہ تمہاری جان کا کوئی حافظ نہیں اور تم دشمن سے ڈر کریا اور آفات میں مبتلا ہو کر بے قراری سے زندگی بسر کرو گے اور تمہاری عمر کے آخری دن بڑے غم و غصہ کے ساتھ گزریں گے۔خدا ان لوگوں کی پناہ ہو جاتا ہے جو اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔سو خدا کی طرف آجاؤ اور ہر ایک مخالفت اس کی چھوڑ دو اور اس کے فرائض میں سستی نہ کرو اور اس کے بندوں پر زبان سے یا ہاتھ سے ظلم مت کرو اور آسمانی قہر اور غضب سے ڈرتے رہو کہ یہی راہ نجات کی ہے۔" اخبار "انصاف" کا تبصرہ (صفحه (۶۶) بزرگ کشمیری صحافی جناب میر عبدالعزیز صاحب ایڈیٹر ہفت روزہ انصاف (راولپنڈی) نے (جنہوں نے مارچ ۱۹۷۶ء میں یہ اہم انکشاف کیا کہ " قائد کے اداریہ میں کشتی نوح" کے الفاظ نقل کے گئے ہیں) "انصاف" مورخہ ۲۲ اپریل ۱۹۷۶ء میں