بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 142
142 "کیا بد بخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اس کا دوسرا اقتباس ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں۔کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگر چہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوش خبری کو دلوں میں بٹھا دوں؟ کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تالوگ سن لیں؟ اور کسی دوا سے میں علاج کروں تانے کے لئے لوگوں کے کان تیسرا اقتباس کھلیں ؟" (صفحہ ۱۹ - ۲۰) کھلیں؟" "اے نادانو ! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گا؟ بلکہ سچا فلسفہ روح القدس سے حاصل ہوتا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے۔تم روح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں۔اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اسے پاؤ گے۔تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچا دیتا ہے۔وہ جو خود مردار خور ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک خدا لائے گا؟ وہ جو خود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں راہ دکھلاوے گا؟ ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے۔پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو ؟ جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں ؟ مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے پہلے صدق و صفا ضروری ہے۔بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔(صفحه ۲۲) "کیا تم ایسے سوراخ میں ہاتھ ڈال سکتے ہو جس میں تم ایک سخت چوتھا اقتباس زہریلے سانپ کو دیکھ رہے ہو ؟ کیا تم ایسی جگہ کھڑے رہ سکتے ہو