بیسویں صدی کا علمی شاہکار — Page 204
باب و 204 اس مرتبہ پر خدا تعالیٰ اپنی ذاتی محبت کا ایک افروختہ شعلہ میں کو دوسرے لفظوں میں شروح کہتے ہیں۔مومن کے دل پر نازل کرتا ہے۔ار اس سے تمام تاریکیوں اور آلائشوں اور کمزوریوں کو دور کر دیتا ہے ہاؤ اس کی روح کے پھونکنے کے ساتھ ہی وہ حسن جواد نی مرتبہ پرتھا۔کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اور ایک روحانی آب وتاب پیدا ہو جاتی ہے۔اور کثیف زندگی کی کبودی علی دور ہو جاتی ہے اورمومن اپنے اندر سوس کر لیا ہی کہ ایک نئی روح اس کے اندر داخل ہوگئی ہے۔جو پہلے نہیں تھی۔اس روح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمیناں مومن کو حاصل ہو جاتا ہے۔اور محبت ذاتیہ الہیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور معبودیت کے پودہ کی آبپاشی کرتی ہے۔اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی۔اس درجہ تک وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے۔اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو بلا کر الوہیت کا قبضہ اُس پر کر دیتی ہے۔اور وہ آگ تمام اعضا را احاطہ کر لیتی ہے۔تب اس لوہے کی مانند جو نہائت درجہ آگ میں تپایا جائے۔یہاں تک کہ سُرخ ہو جائے۔اور آگ کے رنگ پر ہو جائے۔اُس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں۔جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے۔بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے۔جوظاہر وجود کو اپنے رنگ میں سے آتی ہے۔اور باطن میں عبورت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے یہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حدیث قدسی میں استعارہ کے رنگ میں آیا ہے۔کہ پی يسمع و بی بصر وبی نمیشی و بی مبطنش الخمر مینی وہ اپنے روح سے نہیں بلکہ خدا کے روج سے دیکھتا ہے۔اور خدا کی روح سے سنتا اور خدا کی روح سے بولنا اور خدا کی روح سے چلتا۔اور خدا کی روح سے دشمنوں پرحملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پرفیتی اور استملاک کے مقام میں ہوتا ہے ہے ــه اور بي اسمع وبي يبصر بي يبطنس و بی یمشی سریت ہے ناممن قدر یہ ولا تفشی وبي يمشى يه ہی وہ مقام ہے جن کے متعلق خداتعالی نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے ما رميت إِذْ رَمَيْتَ ولكن الله رفی - مینی تو نے نہیں چلایا۔بلکہ خدا نے چلایا۔جبکہ تو نے چلایا ہے مات اذ رميت احمد است دیدن او دیدن خالق شده است ایہی وہ مقام ہے جس کے متعلق حضرت شیخ اکبر رحمہ اللہ علیہ نےاستعارہ کہا ہے کہ گویا خدا خود عاند و خود شہور ہے۔ہی وہ مقام ہے جس کے تعلق وہ کہتے ہیں سے لرَّبُّ ا LONGAL حَقٌّ وَالْعَبْدُ حَقٌّ يَا لَيْتَ شَعْرِي مِنَ المُكلف ان قلتَ عَبْد من ال قلتَ رَبُّ فَالى يكلف